Poor farmer sitting under a tree beside his village field
Prompt
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام علی تھا۔ اس کے گھر میں اس کی بیوی اور دو چھوٹے بچے تھے۔ ان کا کچا گھر تھا اور زندگی بڑی مشکل سے گزر رہی تھی۔ علی دن رات کھیتوں میں محنت کرتا، مگر کبھی فصل اچھی نہ ہوتی اور کبھی بارش سب کچھ تباہ کر دیتی۔
ایک دن علی اپنے کھیت کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھا پریشان تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ایک سفید کبوتر زخمی حالت میں زمین پر پڑا ہے۔ علی نے اسے اٹھایا، گھر لے گیا اور اس کی مرہم پٹی کی۔ بچوں نے بھی کبوتر کی بہت خدمت کی۔
چند دن بعد کبوتر بالکل ٹھیک ہو گیا، مگر وہ اڑ کر جانے کے بجائے روز علی کے گھر آنے لگا۔ ایک صبح کبوتر اپنی چونچ میں ایک چھوٹا سا بیج لے آیا اور علی کے سامنے رکھ دیا۔ علی نے وہ بیج اپنے کھیت میں بو دیا۔
کچھ ہفتوں بعد وہاں ایک عجیب پودا اگ آیا جس پر سنہری رنگ کے پھل لگنے لگے۔ جب علی نے ایک پھل توڑا تو اس کے اندر سے سونے کے سکے نکلے۔ علی حیران رہ گیا۔
مگر علی لالچی نہیں تھا۔ اس نے ان سکوں سے پہلے اپنا گھر ٹھیک کروایا، بچوں کو اسکول میں داخل کروایا اور پھر گاؤں کے غریب لوگوں کی مدد کرنا شروع کر دی۔ اس نے ایک کنواں بنوایا تاکہ پورے گاؤں کو صاف پانی مل سکے۔
یہ دیکھ کر گاؤں کا ایک امیر مگر لالچی زمیندار حسد کرنے لگا۔ اس نے کبوتر کو پکڑنے اور سنہری درخت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن جوں ہی اس نے درخت سے پھل توڑنا چاہا، درخت سوکھ گیا اور سونے کے تمام سکے مٹی بن گئے۔
اسی رات وہ سفید کبوتر علی کے خواب میں آیا اور بولا:
"نیکی کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے، لیکن لالچ انسان سے سب کچھ چھین لیتی ہے۔"
اگلی صبح درخت دوبارہ ہرا بھرا ہو گیا، لیکن اب اس پر سونے کے بجائے عام پھل لگتے تھے۔ علی خوش تھا، کیونکہ اس کے پاس اب عزت، محبت اور پورے گاؤں کی دعائیں تھیں۔
وقت گزرتا گیا اور علی اپنے گاؤں کا سب سے محترم انسان بن گیا۔ لوگ اپنے بچوں کو اس کی کہانی سناتے اور کہتے:
"اگر تم کسی بے بس مخلوق کی مدد کرو گے تو اللہ کسی نہ کسی صورت تمہاری مدد ضرور کرے گا۔"
سبق: نیکی، محنت اور دوسروں کی مدد انسان کو اصل خوشی اور کامیابی دیتی ہے، جبکہ لالچ انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔