Young explorer approaches the last door of a haunted mansion
Prompt
ٹھیک ہے۔ حصہ۱، تقریباً ۲ منٹ کے وائس اوور کے لیے: "سنسان حویلی کا آخری دروازہ — حصہ۱: آغاز" کیا آپ نے کبھی ایسی جگہ کے بارے میں سنا ہے جہاں جانے والا کبھی واپس نہ آیا ہو؟ آج کی کہانی ایک ایسی ہی پراسرار حویلی کی ہے، جس کے بارے میں گاؤں والے کہتے تھے کہ وہاں رات کے وقت عجیب طاقتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ حمزہ ایک نوجوان فوٹوگرافر تھا۔ اسے ویران عمارتوں، پراسرار جنگلوں اور بھولی بسری جگہوں کی تصویریں لینے کا جنون تھا۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنی مہمات کی ویڈیوز اپلوڈ کرتا تھا اور لوگ اس کی بے خوف طبیعت کی تعریف کرتے تھے۔ ایک دن اسے ایک بوڑھے شخص کا پیغام ملا۔ اس پیغام میں صرف ایک جملہ لکھا تھا: "اگر واقعی ہمت ہے، تو سنسان حویلی کا آخری دروازہ دیکھ کر آؤ۔" حمزہ نے فوراً فیصلہ کیا کہ وہ اس جگہ جائے گا۔ اگلی شام وہ گاؤں پہنچا۔ گاؤں غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ چند لوگ اسے دیکھ کر رک گئے۔ ایک بوڑھی عورت اس کے قریب آئی اور دھیمی آواز میں بولی: "بیٹا، سورج غروب ہونے سے پہلے واپس آ جانا۔ رات کو اس حویلی کا آخری دروازہ کھلتا ہے، اور جو اندر جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آ تا۔" حمزہ مسکرایا اور بولا، "میں صرف تصویریں لینے آیا ہوں، پریشان نہ ہوں۔" اُس نے اپنا کیمرہ آن کیا، ٹارچ اور بیگ سنبھالا اور حویلی کی طرف چل پڑا۔ حویلی کے گرد سوکھے درخت تھے۔ ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں سے ٹھنڈی ہوا سیٹی بجاتی ہوئی گزر رہی تھی۔ جیسے ہی حمزہ مرکزی دروازے کے قریب پہنچا، دروازہ خود بخود آہستہ آہستہ چرچراتا ہوا کھل گیا۔ حمزہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر کیمرہ آن کیا، اور بولا: "اگر یہ میری زندگی کی سب سے خطرناک جگہ ہے، تو آج اس کا راز بھی سامنے آ جائے گا۔" وہ اندر قدم رکھتا ہے اور اسی لمحے اس کے پیچھے دروازہ زور سے بند ہو جاتا ہے۔ جاری ہے۔۔۔ اگلے حصے میں حمزہ حویلی کے اندر پہلی خوفناک آواز سنتا ہے، اور اسے ایک ایسا کمرہ ملتا ہے جہاں دیوار پر لگی تصویر اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔